poetry

poetry

صرف یہی اک کام وہ، پردہ دار کرے نینوں کے جو تیر ہیں، دل کے پار کرے بلّھے شہ سے پوچھ لے، اک نقطے کا بھید "م" کا سارا کھیل ہے، روح اقرار کرے عشق تو ایسی رمز ہے، کر دے روشن روح تن سوئے تو سو رہے، مَن بیدار کرے پاک پوِتّر لمس تو، بانٹے صرف شفا جو منوا بیمار ہو، تَن بیمار کرے گھونگھٹ والی ناریے! تیرے من میں کھوٹ من جو کالا نیل ہو، وہ کیا پیار کرے! سونپ دیا ناں یار کو, تُو نے اپنا آپ بس اب چِنتا چھوڑ دے، جو بھی یار کرے رب سانول کے بھیس میں، سینے آن لگا زین انا الحق رمز کا، کون انکار کرے؟ زین

0271모든 권리를 보유합니다.
rizi.riz09rizi.riz09

댓글 0