2326
کسی شام سے بات نہیں کرنی مجھے رات کے دکھ سمجھاتے ہیں اسے دیر سے گھر کو جانا تھا اسے رات کے تارے گننے تھے تم اور کسی کی باتوں میں آ کر ہی یہاں پر آتے ہو مجھے چاند یہ بولا زین پیا ابھی ضبط کرو، ابھی ضبط کرو ابھی لوٹ کے جانا آساں ہے ذرا سوچ سمجھ کر ساتھ چلو ترے نام پہ سانسیں چلتی ہیں مجھے دھڑکن گیت سناتی ہے زین شکیل